
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کی رہنمائی کے لیے شروع کیا گیا امریکی آپریشن 'پروجیکٹ فریڈم' عارضی طور پر روکا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ یہ آپریشن پیر کو ہی شروع ہوا تھا اور صرف ایک دن بعد اسے روکنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ یہ آپریشن شروع ہونے کے بعد امریکہ اور ایران نے ایک دوسرے پر حملے کیے جس سے جنگ بندی بھی خطرے میں پڑ گئی تھی جب کہ آبنائے ہرمز میں بعض جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر منگل کو جاری پیغام میں صدر ٹرمپ نے لکھا کہ پاکستان اور دیگر ملکوں کی درخواست پر اور ایران کے خلاف اپنی عظیم فوجی کامیابیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ پروجیکٹ فریڈم کو کچھ وقت کے لیے روک دیا جائے، یہ دیکھنے کے لیے کہ معاہدہ طے پا سکتا ہے یا نہیں۔ تاہم ان کے بقول ایران کی ناکہ بندی پوری قوت سے جاری رہے گی۔
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے نمائندوں کے ساتھ ایک جامع اور حتمی معاہدے کی سمت میں بہت اچھی پیش رفت ہوئی ہے۔
ایران کے سرکاری میڈیا نے اسے فتح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وقفہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سمندری تجارت کے لیے اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے میں 'مسلسل ناکامیوں' کے بعد ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے ہیں۔
امریکی صدر کا یہ اعلان ایسے وقت آیا جب وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کا آپریشن ایپک فیوری اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد مکمل ہو چکا ہے۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کے اہداف حاصل ہو چکے ہیں۔ ہم امن کے راستے کو ترجیح دیں گے۔ صدر کی ترجیح ایک معاہدہ ہے۔
ایران نے روبیو کے بیان پر کوئی رد عمل نہیں دیا۔ تاہم ایرانی پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف نے گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ 'ہم جانتے ہیں کہ موجودہ صورتِ حال کا تسلسل امریکہ کے لیے ناقابل برداشت ہے اور ہم تو ابھی آغاز کر رہے ہیں۔'






