پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے نقصان اٹھانے والی انڈین ایئرلائنز مشرقِ وسطیٰ کے حالات اور تیل کی بڑھتی قیمتوں سے دوہری مشکلات کا شکار

11:3529/04/2026, الأربعاء
جنرل29/04/2026, الأربعاء
ویب ڈیسک
فائل فوٹو
فائل فوٹو

انڈین ایئرلائنز کی تنظیم نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ انڈیا کی ایوی ایشن انڈسٹری مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور تیل کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے اب بندش کے دہانے پر پہنچ گئی ہے اور کسی بھی وقت آپریشنز بند ہو سکتے ہیں۔

ایئر انڈیا، انڈیگو اور اسپائس جیٹ جیسی بڑی انڈین ایئرلائنز کی نمائندگی کرنے والی تنظیم 'فیڈریشن آف انڈین ایئرلائنز' نے 26 اپریل کو ملک کی وزارتِ ہوابازی کو ایک خط لکھا ہے جس میں ان خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔

انڈین میڈیا کے مطابق ایئرلائنز نے حکومت سے جہازوں کے فیول پر عائد 11 فیصد ایکسائز ڈیوٹی مؤخر کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔

ایئر لائن چلانے کے اخراجات میں فیول کی لاگت تقریباً 40 فیصد ہوتی ہے۔ اپنے خط میں ایئرلائنز کی تنظیم نے کہا ہے کہ 'ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ایئرلائنز کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائے گا جس سے طیارے گراؤنڈ کرنے پڑیں گے اور پروازیں منسوخ ہوں گی۔'

خط میں فضائی آپریشن جاری رکھنے کے لیے حکومت سے فوری مداخلت اور مدد کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ انڈین ایئرلائنز پہلے ہی پاکستانی فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے نقصان کا سامنا کر رہی ہیں۔ اس دوران مشرقِ وسطیٰ کے حالات اور تیل کی بڑھتی قیمتوں نے ان کے کاروبار کو مزید چوٹ پہنچائی ہے۔

پاکستان نے گزشتہ سال اپریل میں انڈیا سے جھڑپوں کے بعد سے انڈین ایئرلائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر رکھی ہے جس کی وجہ سے ہر ہفتے انڈین ایئرلائنز کی تقریباً 800 پروازیں متاثر ہو رہی ہیں۔

ایئرانڈیا نے پاکستانی فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے تقریباً 60 کروڑ ڈالر سالانہ نقصان کا تخمینہ لگایا ہے۔

#پاکستانی فضائی حدود
#انڈین ایئرلائنز
#مشرق وسطی
#تیل کی قیمتیں
#ایئر انڈیا