
انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں جاری برکس تنظیم کے اجلاس میں ایران اور متحدہ عرب امارات کے نمائندوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے متحدہ عرب امارات پر الزام عائد کیا کہ وہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن میں براہِ راست ملوث رہا ہے۔
یہ واقعہ ایسے موقع پر ہوا ہے جب حال ہی میں اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران جنگ کے دوران بنیامین نیتن یاہو نے امارات کا خفیہ دورہ کیا اور اماراتی صدر شیخ محمد بن زید سے ملاقات بھی کی۔
متحدہ عرب امارات نے گزشتہ روز اسرائیل کے اس دعوے کی تردید کی تھی۔ تاہم ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا تھا کہ ایرانی سیکیورٹی ایجنسیوں نے یہ بات پہلے ہی ایرانی قیادت کو بتائی تھی۔ عراقچی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ مل کر تفرقہ پھیلانے والوں کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔
بعد ازاں ایرانی وزیرِ خارجہ نے نئی دہلی میں برکس تنظیم کے اجلاس کے دوران بھی اس معاملے کو اٹھایا جس پر متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی سخت جواب دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 'ایران برکس کے رکن ممالک اور عالمی برادری کے تمام ذمے دار ارکان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کی واضح مذمت کریں۔
اس کے بعد متحدہ عرب امارات کای جانب سے بھی اس معاملے پر جواب دیا گیا جس کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں کہ اماراتی نمائندے کی جانب سے کیا کہا گیا۔
تاہم ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق امارات کے جواب کے بعد عباس عراقچی نے کہا کہ 'میں نے اتحاد برقرار رکھنے کی خاطر (برکس) میں دیے گئے اپنے بیان میں متحدہ عرب امارات کا نام نہیں لیا تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ امارات میرے ملک کے خلاف کی گئی جارحیت میں براہِ راست شامل رہا ہے۔'
ایرانی میڈیا کے مطابق عباس عراقچی نے مزید کہا کہ 'جب حملے شروع ہوئے تو امارات نے مذمتی بیان تک جاری نہیں کیا۔'
ایرانی میڈیا نے اماراتی نمائندے کا بیان جاری نہیں کیا کہ ان کی جانب سے کیا کہا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق عباس عراقچی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کو نہ امریکی فوجی اڈے سیکیورٹی فراہم کر سکتے ہیں نہ ہی اس کا اسرائیل سے اتحاد۔ انہوں نے کہا کہ امارات کو ایران سے متعلق اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔

واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے اپنی جوابی کارروائیوں میں سب سے زیادہ حملے متحدہ عرب امارات پر کیے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق ایران نے اسرائیل پر بھی اتنے میزائل اور ڈرونز فائر نہیں کیے جتنے امارات پر کیے ہیں۔
حال ہی میں ایک امریکی اخبار کی جانب سے یہ رپورٹ بھی سامنے آئی کہ متحدہ عرب امارات نے بھی خفیہ طور پر ایران پر حملے کیے تھے۔






