
آسٹریلوی وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آسٹریلوی بچی پر فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کریں جو اپنی فیملی کے ساتھ چھٹیوں پر پاکستان آئی تھی۔
نو سالہ ہانیہ احمد چکوال میں ایک ڈکیتی کے واقعے کے دوران پنجاب پولیس کے کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکار کی فائرنگ سے ہلاک ہوئی ہیں۔
ہانیہ آسٹریلیا کی رہائشی تھی جن کی موت پر آسٹریلیا میں بھی افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ آسٹریلوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ بچی کے خاندان کو مدد فراہم کر رہے ہیں۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
پنجاب پولیس نے واقعے کی تفصیلات کے بارے میں بتایا ہے کہ 10 جون کی رات چکوال میں مسلح ڈاکوؤں نے ایک گاڑی کو روک کر اس میں موجود فیملی کو یرغمال بنایا ہوا تھا۔ اس دوران سی سی ڈی اہلکاروں نے مداخلت کی کوشش کی۔
پنجاب پولیس کے مطابق اس دوران مشتبہ افراد کی جانب سے پولیس پر فائرنگ کی گئی جس کے جواب میں پولیس اہلکاروں نے بھی فائرنگ کی۔ اسی افراتفری میں متعلقہ پولیس افسر نے غلط اندازہ لگایا کہ ملزمان متاثرین کی گاڑی میں فرار ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔
'پولیس افسر نے اپنے بندوق سے گاڑی پر فائر کھول دیا اور اس غلط فیصلے کے نتیجے میں نو سالہ بچی ہانیہ کی موت واقع ہو گئی جب کہ اس کے والد اور بھائی زخمی ہو گئے۔'
کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ پولیس افسر کا یہ طرز عمل ان کے طے شدہ مروجہ اصولوں سے انحراف تھا جس کے بعد متعلقہ افسر کے خلاف قانونی و محکمہ جاتی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کرنے والے افسر کو معطل کر دیا گیا تھا اور اسے حراست میں لینے کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ واقعے کی ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی ہے اور شواہد محفوظ کیے جا چکے ہیں۔
پنجاب پولیس نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے۔
پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمان کی جانب سے پہلے فائرنگ ہوئی جب کہ بچی کے والد نے اپنے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ پولیس کی جانب سے پہلے گولی چلائی گئی۔
آسٹریلوی وزیرِ اعظم نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات ہونی چائیں تاکہ متاثرہ فیملی سمیت سب جان سکیں کہ کیا ہوا تھا۔ انہوں نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا توقع کرتا ہے کہ واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں گی۔






