ِپاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کے لیے چائنہ میں مذاکرات کی اطلاعات

12:251/04/2026, بدھ
جنرل1/04/2026, بدھ
ویب ڈیسک
دونوں ملکوں کے درمیان نومبر میں ترکیہ کی ثالثی میں بھی امن مذاکرات ہوئے تھے جو بے نتیجہ رہے تھے۔ (فائل فوٹو)
دونوں ملکوں کے درمیان نومبر میں ترکیہ کی ثالثی میں بھی امن مذاکرات ہوئے تھے جو بے نتیجہ رہے تھے۔ (فائل فوٹو)

امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' نے دو پاکستانی عہدے داروں کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کے لیے چائنہ میں مذاکرات شروع ہو گئے ہیں اور بیجنگ دونوں فریقین کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

اے پی کے مطابق دو پاکستانی عہدے داروں نے بدھ کو چائنہ میں ہونے والے ان مذاکرات کی تصدیق کی ہے۔ جب کہ چائنہ کی ثالثی کی کوششوں سے آگاہ ایک تیسرے شخص نے کہا ہے کہ مذاکرات کا مقصد دونوں فریقین کے درمیان ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری جھڑپوں کا خاتمہ ہے۔

عہدے داروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ دونوں ملکوں کے نمائندے شمالی چائنہ میں ارومچی کے علاقے میں مل رہے ہیں۔ چائنہ کی جانب سے معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا اور پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بھی مذاکرات کی تصدیق یا تردید سے گریز کیا ہے۔

تاہم ذرائع کے مطابق مذاکرات ارومچی میں شروع ہو گئے ہیں اور انہیں پاکستان و افغانستان کے لاکھوں شہریوں کے لیے ممکنہ ریلیف کے موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے دونوں ملکوں کی فورسز کے درمیان سرحدی جھڑپیں جاری ہیں۔ پاکستان افغانستان میں فضائی کارروائیوں کے ذریعے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کر رہا ہے۔

پاکستان افغانستان پر دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کا الزام لگاتا ہے جس کی افغان طالبان تردید کرتے آئے ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان کے دہشت گرد افغان سرزمین پر پناہ لیتے ہیں اور وہاں سے بیٹھ کر پاکستان میں حملے کراتے ہیں۔ افغان طالبان اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے اسے پاکستان کا اندرونی مسئلہ قرار دیتے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان عیدالفطر کے موقع پر عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا۔ عید گزرنے کے بعد حملے دوبارہ شروع ہو گئے ہیں تاہم اب ان میں پہلے جیسی شدت نہیں ہے۔ فروری اور مارچ کے اوائل میں دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی اور شدید حملے کیے جا رہے تھے۔ تاہم عید کے بعد سے لڑائی کی شدت میں کمی آئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان حالیہ مذاکرات چائنہ کی ثالثی کی پیش کش کے بعد شروع ہوئے ہیں۔ دونوں فریقین نے یہ پیش کش قبول کی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل اکتوبر اور نومبر کے مہینوں میں قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں دونوں فریقین کے درمیان جنگ بندی اور امن مذاکرات ہوئے تھے جو بے نتیجہ رہے تھے اور کوئی حتمی معاہدے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے تھے۔

##پاکستان
##افغانستان
##چائنہ