
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایران جنگ کے جلد خاتمے کا عندیہ دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ چاہے ایران سے معاہدہ ہو یا نہ ہو، امریکہ جنگ ختم کر دے گا۔
وائٹ ہاؤس میں منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا 'ہم بہت جلد وہاں سے نکل جائیں گے۔' ان کا کہنا تھا کہ دو ہفتوں کے اندر یا شاید تین ہفتوں تک امریکہ جنگ ختم کر دے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کیے گئے فضائی حملے کے طے شدہ اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں۔ ایران کی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی صلاحیت کو کم کرنے کا بنیادی ہدف حاصل کر لیا گیا ہے اور امریکہ اب بس ’کام ختم کر رہا ہے۔‘
جب ان سے سوال ہوا کہ کیا کارروائیاں ختم کرنے کا فیصلہ کامیاب سفارت کاری سے مشروط ہوگا؟ تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ نہیں۔ 'ایران کو ڈیل کرنے کی ضرورت نہیں، نہیں، انہیں مجھ سے معاہدہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔'
دوسری جانب امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان کسی موقع پر ملاقات کا امکان موجود ہے اور امریکہ کو جنگ کا خاتمہ دکھائی دے رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ آج یا کل نہیں ہوگا لیکن یہ ہونے والا ہے۔
اس سے قبل امریکہ ایران کو جلد از جلد معاہدہ کرنے اور امریکہ کے مجوزہ 15 نکاتی معاہدے کو قبول کرنے پر زور دے رہا تھا بصورت دیگر وہ ایران پر حملے شدید کرنے کی دھمکیاں دے رہا تھا۔ تاہم اب امریکی حکام جنگ کے جلد خاتمے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کی رات نو بجے امریکی قوم سے خطاب کریں گے اور انہیں ایران جنگ سے متعلق اہم معلومات پر اعتماد میں لیں گے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے اپسوس کے ساتھ مل کر کیے گئے ایک سروے کے مطابق کہا ہے کہ دو تہائی امریکی چاہتے ہیں کہ امریکہ ایران جنگ میں اپنی شمولیت جلد ختم کرے، اگر مقاصد پورے نہ ہوئے ہوں تب بھی جنگ ختم کر دی جائے۔
سروے میں شامل 66 فیصد افراد نے جنگ کے جلد خاتمے کے حق میں رائے دی جب کہ صرف 27 فیصد نے کہا کہ امریکہ کو مقاصد پورے ہونے تک جنگ جاری رکھنی چاہیے۔






