اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا متنازع قانون منظور کر لیا جس میں 'معافی یا رحم کی کوئی گنجائش نہیں'

10:0431/03/2026, منگل
جنرل31/03/2026, منگل
ویب ڈیسک
فائل فوٹو
فائل فوٹو

اسرائیل کی پارلیمنٹ نے پیر کے روز ایک متنازع قانون منظور کیا ہے جس کے تحت فوجی عدالتوں میں مہلک حملوں کے مرتکب قرار دیے گئے فلسطینیوں کے لیے پھانسی کو ایک ڈیفالٹ سزا مقرر کر دیا گیا ہے۔ یعنی اب فلسطینی قیدیوں کو باآسانی سزائے موت دی جا سکے گی۔

ناقدین کے مطابق یہ قانون صرف ان اسرائیلیوں پر لاگو ہوگا جو قتل کے مجرم قرار دیے جائیں اور جن کے حملوں کا مقصد 'اسرائیل کے وجود کا خاتمہ' ہو۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ سزائے موت فلسطینیوں کو تو دی جائے گی لیکن ایسے ہی جرائم کرنے والے یہودی اسرائیلیوں پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔

قانون میں ایسی شقیں شامل ہیں جن کے تحت سزا سنائے جانے کے بعد 90 دن کے اندر پھانسی دینا لازم ہوگا۔ اگرچہ سزا پر عمل درآمد میں کچھ تاخیر کی گنجائش موجود ہے لیکن معافی یا رحم کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ اس قانون سازی پر اسرائیل کو عالمی تنقید کا بھی سامنا ہے۔

قانون میں سزائے موت کے بجائے عمر قید کی سزا دینے کا اختیار بھی موجود ہے لیکن صرف غیر متعین 'خصوصی حالات' میں۔ جس کا مطلب ہے کہ عام طور پر صرف سزائے موت ہی دی جائے گی۔

واضح رہے کہ اسرائیل نے 1954 میں قتل کے جرم پر سزائے موت ختم کر دی تھی۔ اس کے بعد سے سول ٹرائل کے ذریعے اسرائیل میں جس واحد شخص کو پھانسی دی گئی وہ نازی ہولوکاسٹ کے منصوبہ ساز اڈولف آئخمن تھے جسے 1962 میں سزائے موت دی گئی تھی۔

مغربی کنارے (ویسٹ بینک) کی فوجی عدالتیں پہلے ہی فلسطینی ملزمان کو سزائے موت سنانے کی مجاز ہیں۔ تاہم اب تک اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

یہ قانون انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر کی جانب سے پیش کیا گیا۔ بن گویر ووٹنگ سے قبل پھانسی کے پھندے کی شکل کے بیج پہنتے رہے۔

بن گویر نے پارلیمنٹ میں کہا 'یہ مقتولین کے لیے انصاف کا دن ہے اور دشمنوں کے لیے عبرت کا دن ہے۔ جو بھی دہشت گردی کا انتخاب کرے گا، وہ موت کو چنے گا۔'

فلسطینیوں نے قانون مسترد کر دیا، بعض حلقوں کی جوابی حملوں کی اپیل

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اس قانون کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور فلسطینیوں کو خوف زدہ کرنے کی ایک ناکام کوشش قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔

صدارتی دفتر کے بیان میں کہا گیا کہ 'ایسے قوانین اور اقدامات فلسطینی عوام کا حوصلے نہیں توڑ سکتے اور نہ ہی ان کی ثابت قدمی کو کمزور کر سکتے ہیں۔'

بیان میں مزید کہا گیا کہ 'یہ اقدامات انہیں آزادی، خودمختاری اور مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنانے والی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جائز جدوجہد سے باز نہیں رکھ سکتے۔'

فلسطینی مزاحمتی تنظیموں حماس اور فلسطینی اسلامی جہاد نے اس قانون کے ردعمل میں فلسطینیوں سے حملے کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔

قانون امتیازی ہے: ناقدین کا مؤقف

اسرائیل کے نمایاں انسانی حقوق کے اداروں نے اس قانون کو 'ادارہ جاتی امتیاز اور فلسطینیوں کے خلاف نسلی تشدد' قرار دیا ہے۔ اسرائیل کی ایک انسانی حقوق کی تنظیم 'ایسوسی ایشن فور سول رائٹس ان اسرائیل' نے اس قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔

اس قانون نے اسرائیل کے مغربی اتحادیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اسرائیل کے اتحادی پہلے ہی مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد پر تنقید کر چکے ہیں۔

بین الاقوامی ردعمل کو کم کرنے کے لیے نیتن یاہو نے قانون کے کچھ نکات نرم کرنے کی ہدایت کی مگر انہوں نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔ یہ بل کنیسیٹ کے 120 میں سے 62 ارکان کی حمایت سے منظور ہوا۔

ابتدائی مسودے میں مغربی کنارے کی فوجی عدالتوں میں دہشت گردی کے مہلک حملوں کے مرتکب غیر اسرائیلی شہریوں کے لیے سزائے موت لازمی قرار دی گئی تھی جب کہ ترمیم شدہ قانون میں عمر قید کا آپشن بھی شامل کیا گیا ہے۔

اسرائیل کی سول عدالتوں میں یہ قانون ایسے افراد کے لیے عمر قید یا سزائے موت لازمی قرار دیتا ہے جو 'جان بوجھ کر کسی شخص کو اسرائیل کے وجود کے خاتمے کے ارادے سے قتل کریں۔'

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قانون کی زبان درحقیقت سزائے موت کو اسرائیل کی 20 فی صد عرب اقلیت تک محدود کر دیتی ہے جن میں سے اکثر خود کو فلسطینی شناخت کے ساتھ جوڑتے ہیں جب کہ یہودی شہری اس سے باہر رہتے ہیں۔

ووٹنگ سے پہلے ہی جرمنی، فرانس، اٹلی اور برطانیہ کے وزرائے خارجہ نے اس قانون کو 'عملاً امتیازی' قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اسرائیل کے جمہوری اصولوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کے ایک گروپ نے بھی خبردار کیا کہ اس قانون میں 'دہشت گرد' کی تعریف مبہم ہے جس کے باعث سزائے موت ایسے افعال پر بھی دی جا سکتی ہے جو حقیقی معنوں میں دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتے۔

اتمار بن گویر کا مؤقف ہے کہ سزائے موت فلسطینیوں کو اسرائیلیوں پر مہلک حملے کرنے یا قیدیوں کے تبادلے کے لیے اغوا جیسے اقدامات سے باز رکھے گی۔

تاہم ایمنیسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ سزائے موت جرائم کی روک تھام میں عمر قید سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔

اسرائیل کے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قانون آئینی تقاضوں سے متصادم ہے جس کے باعث امکان ہے کہ سپریم کورٹ اسے کالعدم قرار دے سکتی ہے۔

##اسرائیل
##فلسطینی
##سزائے موت
##متنازع قانون