
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ڈی سیلینیشن پلانٹس سمیت توانائی کے انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اگر امریکہ ایران میں سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے پلانٹس کو نشانہ بناتا ہے تو اس اقدام کے مشرقِ وسطیٰ کے خطے پر انتہائی سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں پھر دھمکی دی ہے کہ 'اگر آبنائے ہرمز کو فوری طور پر تجارت کے لیے نہیں کھولا گیا تو ہم ایران کے تمام بجلی گھروں، تیل کے کنوؤں، خارگ جزیرے اور سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے والے پلانٹس کو اڑا کر صفحۂ ہستی سے مٹا دیں گے۔'
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑا خطرہ یہ نہیں کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ کیا کریں گے۔ بلکہ اصل خطرہ اس بات کا ہے کہ ایران پھر جواب میں کیا کرے گا۔ کیوں کہ مشرقِ وسطیٰ کا خطہ پانی کی شدید قلت کا شکار ہے اور ایران جوابی حملوں میں لامحالہ خلیجی ملکوں کے ڈی سیلینیشن پلانٹس کو نشانہ بنائے گا۔
ایران اپنی ضرورت کے پانی کا بہت کم حصہ ڈی سیلینیشن پلانٹس سے سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنا کر حاصل کرتا ہے۔ جب کہ خلیجی ممالک کا زیادہ تر انحصار ڈی سیلینیشن پلانٹس پر ہے۔
خلیجِ فارس میں سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے والے سینکڑوں پلانٹس موجود ہیں جو امریکی حملوں کے بعد ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے نشانے پر آ جائیں گے۔ یہ پلانٹس لاکھوں لوگوں کے لیے پانی کا واحد ذریعہ ہیں اور ان کے بغیر دبئی، ابو ظہبی اور دوحہ جیسے بڑے شہر اپنی آبادی کی پانی کی ضرورت پوری نہیں کر سکتے۔

ایران میں پانی کی قلت کا بحران
گو کہ ایران کا سمندری پانی کے استعمال پر بہت کم انحصار ہے، لیکن ایران کئی برسوں سے پانی کی شدید قلت کا شکار ہے۔ مسلسل پانچ سالوں سے شدید خشک سالی کی وجہ سے ایران کے پانی کے ذخائر سکڑ گئے ہیں۔
ایرانی میڈیا کی بعض رپورٹس کے مطابق تہران کو پانی سپلائی کرنے والے ذخائر اپنی استعداد کے 10 فیصد سے بھی کم سطح پر آ گئے ہیں۔ ایران اب بھی اپنی ضرورت کا زیادہ تر پانی دریاؤں، قدرتی ذخائر اور زیرِ زمین سے حاصل کرتا ہے۔
اسرائیل نے سات مارچ کو تہران کے مضافات میں ایران کے تیل کے ذخائر پر حملے کیے تھے جس سے بڑی آگ بھڑک اٹھی تھی۔ گہرے دھویں اور بڑے پیمانے پر تیل جلنے سے زہریلی بارش بھی ہوئی تھی۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس بارش سے پانی کے ذخائر بھی آلودہ ہو سکتے ہیں۔

خلیجی ملکوں کا ڈی سیلینیشن پر انحصار
کویت اپنی ضرورت کا 90 فیصد پانی سمندری پانی کو قابل استعمال بنا کر حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح عمان 86 فیصد اور سعودی عرب بھی 70 فیصد پانی ڈی سیلینیشن پلانٹس سے حاصل کرتے ہیں۔
ڈی سیلینیشن میں سمندری پانی سے نمک علیحدہ کر کے اسے قابلِ استعمال بنایا جاتا ہے۔ اس عمل کو ریورس آسموسس یا حرفِ عام میں 'آر او' بھی کہتے ہیں۔
ڈی سیلینیشن پلانٹس کے مختلف سسٹم ہوتے ہیں۔ جیسے سمندر سے پانی لینے کا سسٹم، اسے ٹریٹ کرنے کا مرحلہ اور اس پلانٹ کو چلانے کے لیے توانائی کی فراہمی وغیرہ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی ایک بھی سسٹم کو نقصان پہنچا دیا جائے تو صاف پانی کی پیداوار کا عمل رک جائے گا۔
ماہرین کے مطابق 'ایران کے پاس جوابی حملہ کرنے کے لیے امریکہ جتنی صلاحیت تو نہیں ہے لیکن یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ وہ خلیجی ملکوں کے لیے اخراجات اتنے بڑھا دے کہ وہ جنگ میں شامل ہونے یا اسے روکنے کے لیے مداخلت پر مجبور ہو جائیں۔'
امریکہ کی یونیورسٹی آف یوٹا کے مڈل ایسٹ سینٹر کے ڈائریکٹر مائیکل کرسٹوفر لو کہتے ہیں کہ 'ہر کوئی سعودی عرب اور اس کے پڑوسی ملکوں کو پیٹرو ریاستیں سمجھتا ہے۔ یعنی جو تیل پر انحصار کرتی ہیں۔ لیکن میں انہیں کھارے پانی کی سلطنتیں کہتا ہوں۔' ان کے بقول 'یہ 20 ویں صدی کی اہم کامیابی کے ساتھ ایک قسم کی کمزوری بھی ہے۔'
امریکہ اور خلیجی حکومتوں کو خطرے کا ادراک ہے؟
سن 2010 میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ایک جائزے میں خبردار کیا گیا تھا کہ ڈی سیلینیشن فیسیلیٹی پر حملے کئی خلیجی ملکوں میں قومی بحران کو جنم دے سکتے ہیں اور اگر آلات تباہ ہو گئے تو پانی کی فراہمی میں مہینوں کا تعطل آ سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ خلیجی ملکوں کا 90 فیصد قابلِ استعمال سمندری پانی صرف 56 پلانٹس سے آتا ہے۔ اور ان میں سے ہر ایک پلانٹ فوجی کارروائی کے شدید خطرے سے دوچار ہے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے پائپ لائن نیٹ ورک میں بڑی سرمایہ کاری کی ہے۔ پانی کے ذخائر بنائے ہیں اور قلیل المدتی خلل پر قابو پانے کے لیے کئی دیگر اقدامات کیے ہیں۔ لیکن بحرین، قطر اور کویت جیسی چھوٹی ریاستوں کے پاس بہت کم ذخائر اور بیک اپ سپلائی ہے۔
اس خطے میں ڈی سیلینیشن اس لیے بھی بڑھ رہی ہے کیوں کہ موسمیاتی تبدیلیاں شدت اختیار کر رہی ہیں اور پورے خطے میں خشک سالی ہے۔
یہ پلانٹس خود بہت زیادہ توانائی استعمال کرتے ہیں اور بھاری مقدار میں کاربن خارج کرتے ہیں جب کہ ساحلی علاقوں میں واقع ہونے کی وجہ سے یہ شدید موسمی حالات اور بڑھتی ہوئی سمندری سطح کے خطرات سے بھی دوچار رہتے ہیں۔
ماضی میں مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات میں ڈی سیلینیشن پلانٹس کو نشانہ بنایا گیا
یونیورسٹی آف یوٹاہ کے ماہر لو کے مطابق، 1990-1991 میں عراق کی کویت پر جارحیت کے دوران پسپا ہوتی عراقی افواج نے بجلی گھروں اور ڈی سیلینیشن تنصیبات کو نقصان پہنچایا۔ اسی دوران لاکھوں بیرل خام تیل جان بوجھ کر خلیج فارس میں چھوڑا گیا جس سے پورے خطے میں ڈی سیلینیشن پلانٹس کے لیے استعمال ہونے والے سمندری پانی کی سپلائی لائنز کو خطرہ لاحق ہو گیا۔
گو کہ فوری طور پر بڑی تنصیبات کے انٹیک والوز کے گرد حفاظتی رکاوٹیں نصب کی گئی تھیں۔ تاہم اس تباہی کے نتیجے میں کویت تازہ پانی سے تقریباً محروم ہو گیا اور ہنگامی بنیادوں پر پانی کی درآمد پر انحصار کرنا پڑا جب کہ مکمل بحالی میں کئی سال لگے تھے۔
حالیہ برسوں میں یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے کشیدگی بڑھنے پر سعودی عرب کی ڈی سیلینیشن تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا۔
بین الاقوامی قانون شہری انفراسٹرکچر، خاص طور پر وہ سہولیات جو عوام کی بقا کے لیے ناگزیر ہوں، جیسے پینے کے پانی کی فراہمی وغیرہ کو نشانہ بنانے سے سختی سے منع کرتا ہے۔






