
سات سالہ علین سعید خون سے رنگی پٹیوں میں لپٹی ہوئی اپنے والد کے جنازے میں شریک تھیں۔ ان کے والد گزشتہ ہفتے لبنان کے جنوبی علاقے میں اسرائیل کی بمباری سے ہلاک ہو گئے تھے جب کہ وہ اور ان کے کچھ رشتے دار بمشکل زندہ بچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔
علین اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ والد کی آخری رسومات میں شریک تھیں جب اچانک ایک اور اسرائیلی میزائل گرا اور ان کی نومولود بہن اور دیگر رشتے دار بھی نشانہ بن گئے۔
علین کے گھر پر یہ میزائل بدھ کو گرا تھا۔ عین اس دن جو ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کا پہلا دن تھا۔ لبنان میں بھی بہت سے لوگ اس امید میں تھے کہ اب جنگ رک گئی لیکن ان کی یہ امید عارضی ثابت ہوئی۔ اس روز اسرائیل نے پہلے سے بھی شدید بمباری اور حملے کیے جن میں علین کے اہلِ خانہ اور رشتے داروں سمیت 350 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے۔
علین کے 64 سالہ دادا ناصر سعید کے بقول 'انہوں نے کہا کہ جنگ بندی ہو گئی ہے۔ باقی تمام لوگوں کی طرح ہم بھی اپنے گاؤں لوٹ آئے۔ ہم عبادت کے لیے گئے تھے اور اپنے گھر لوٹ رہے تھے جب اچانک ایسا لگا کہ جیسے ہمارے سروں پر کوئی طوفان ٹوٹ پڑا ہے۔'
اتوار کو وہ اپنے دیگر رشتے داروں کے ساتھ طائر شہر میں اپنے پیاروں کی لاشیں وصول کر رہے تھے۔ ان میں ایک ننھی بچی کی لاش بھی شامل تھی جو ان کی پوتی اور علین کی چھوٹی بہن تعلین تھی جس نے ابھی زندگی کی دو بہاریں بھی نہیں دیکھی تھیں۔

علین کی والدہ خود زخمی ہونے کے بعد اسپتال میں زیرِ علاج ہیں اور اپنے شوہر و ننھی بیٹی کی موت کا غم سہہ رہی ہیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق اس کے پاس اس واقعے کے بارے میں زیادہ شواہد نہیں ہیں جس کی بنیاد پر وہ اس کی تحقیقات کرے۔ اسرائیلی فوج کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ ایسے اقدامات کر رہی ہے جس سے اس کے حزب اللہ کے خلاف حملوں میں عام شہریوں کو کم سے کم نقصان ہو۔
'تعلین جنگ میں پیدا ہوئی اور جنگ میں ہی ماری گئی'
لبنان میں اسرائیلی حملے دو مارچ سے شروع ہوئے تھے جب حزب اللہ نے ایران کی حمایت میں اسرائیلی چوکیوں پر فائر کھولا تھا۔ اس کے بعد سے اسرائیل لبنان میں مسلسل کارروائیاں بڑھا رہا ہے اور شدید فضائی حملے کر رہا ہے جن میں دو ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ مہلوکین میں 165 بچے اور 250 کے قریب خواتین شامل ہیں۔

علین کے دادا ناصر سعید اسرائیلی حملوں کو انسانیت سے عاری اور جنگی جرائم قرار دیتے ہوئے سوال اٹھاتے ہیں کہ 'کہاں ہیں انسانی حقوق؟'
'اگر اسرائیل میں ایک بچہ بھی زخمی ہو تو دنیا اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ کیا ہم انسان نہیں ہیں؟ کیا ہم زندہ نہیں ہیں؟ ہم بھی انہی کی طرح ہیں۔'
علین کے نانا محمد نزال بتاتے ہیں کہ اس کی چھوٹی بہن تعلین 2024 میں پیدا ہوئی تھی جس وقت اسرائیل اور حزب اللہ کی لڑائی چل رہی تھی۔ ان کے بقول 'وہ جنگ میں پیدا ہوئی اور جنگ میں ہی اس دنیا سے چلی گئی۔'






