
انڈیا کی ریاستوں مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں ریاستی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل جمعرات سے شروع ہو گیا ہے۔ مغربی بنگال کے الیکشن پر سب کی بہت گہری نظریں ہیں کیوں کہ اس سے قبل ووٹر لسٹوں سے لاکھوں لوگوں کا نام خارج کرنے کی وجہ سے اس کی شفافیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
مغربی بنگال انڈیا کی ایک بڑی ریاست ہے اور یہ ان ریاستوں میں شامل ہے جہاں نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نہیں ہے۔

مغربی بنگال کے علاوہ آج سے تمل ناڈو میں بھی ووٹنگ شروع ہو گئی ہے۔ ووٹنگ کئی مراحل میں مکمل ہوگی جس کے بعد نتائج کا اعلان چار مئی کو متوقع ہے۔ اس سے قبل ہونے والے کیرالہ اور آسام کی ریاستوں اور وفاقی علاقے پڈوچری کے انتخابی نتائج بھی اسی دن آنے کی توقع ہے۔
ان انتخابات سے قبل انڈیا میں ووٹر لسٹوں سے متعلق کئی سوالات اور تنازعات کھڑے ہوئے ہیں۔ انڈیا کے الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹوں میں بڑی ردوبدل کی ہے اور تقریباً 90 لاکھ افراد (کل ووٹرز کا 12 فیصد) کا نام لسٹوں سے نکال دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ایک سے زائد بار اندراج، مرنے والوں اور ووٹ ڈالنے کے لیے نااہل افراد کے نام نکالے گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 63 لاکھ افراد کی موت ہو چکی ہے جس کی وجہ سے ان کا نام لسٹوں سے خارج کیا گیا جب کہ 27 لاکھ افراد کو مشتبہ اور دستاویزی تصدیق نہ ہونے اور دیگر وجوہات کی بنا پر ووٹر لسٹوں سے نکالا گیا ہے۔
تاہم ایک طرف جہاں اپوزیشن جماعتیں اس پر سوال اٹھا رہی ہیں تو وہیں کئی ووٹرز بھی بے ضابطگیوں کی شکایات کرتے رہے ہیں۔ متعدد ووٹرز کا کہنا ہے کہ انہوں نے پچھلے انتخابات میں ووٹ ڈالا تھا اور اس بار بغیر کوئی وجہ بتائے ان سے یہ حق چھین لیا گیا ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹوں میں اس ردوبدل کے بالخصوص مسلمانوں اور دیگر پسماندہ اقلیتوں پر گہرے اثرات ہوں گے۔
انڈین الیکشن کمیشن نے خود پر لگنے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس سے جلعی ووٹرز کے خاتمے اور الیکشن کی شفافیت یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔






