
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے جمعرات کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل نے لبنان کے ساتھ 10 دن کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے۔ تاہم ان کا اصرار تھا کہ اسرائیلی فورسز اس عرصے کے دوران حزب اللہ کے مکمل انخلا کے مطالبے کے برخلاف لبنان کے جنوبی علاقوں میں ہی موجود رہیں گی۔
دوسری جانب جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جنوبی لبنان کے علاقوں میں بمباری جاری ہے۔ لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے جنگ بندی کے اعلان کے چند منٹ بعد ہی خیام اور دیبین کے علاقوں میں فضائی حملے کیے جن میں ہونے والے نقصانات کے بارے میں فی الحال کوئی اطلاع نہیں ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا جو تل ابیب کے مقامی وقت کے مطابق رات نو بجے سے شروع ہو گئی ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 'میری لبنان کے قابل احترام صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بی بی نیتن یاہو سے بہت اچھی بات چیت ہوئی ہے۔ یہ دونوں رہنما امن کے لیے 10 روزہ جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔
لبنان اور اسرائیل کا وفد واشنگٹن ڈی سی میں موجود ہے اور امریکہ ان کے درمیان ثالثی کرا رہا ہے۔ حزب اللہ ان مذاکرات کا حصہ نہیں ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے لبنان اور اسرائیل کے واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے مذاکرات جاری رکھنے کے لیے عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔
ان کے بقول 'حزب اللہ نے مطالبہ کیا تھا کہ ہم لبنان سے مکمل انخلا کریں اور امن کے بدلے امن کے اصول کو اپنائیں۔ میں نے ان مطالبات سے اتفاق نہیں کیا۔'
نیتن یاہو کے بقول اسرائیلی فوجی جنوبی لبنان کے ان علاقوں میں موجود رہیں گے جنہیں انہوں نے 'توسیع شدہ سیکیورٹی پٹی' یا بفرزون قرار دیا ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ 'اسرائیلی فوج سمندر سے شیبہ فارمز اور ہرمون کی پہاڑیوں سے شام کی سرحد تک کے علاقوں تک قائم بفرزون میں موجود رہے گی۔'
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل دو شرائط پر ان مذاکرات میں شامل ہو رہا ہے۔ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اور لبنانی حکومت کے ساتھ پائیدار امن معاہدہ۔ ان کے بقول 'لبنان کے ساتھ اب ایک تاریخی امن معاہدے کا موقع موجود ہے کیوں کہ ہم نے طاقت کے توازن کو تبدیل کر دیا ہے۔'
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مجھے کہا ہے کہ ایران کی بچی کچھی صلاحیتوں کو تباہ کرنے کے لیے بھی تیار رہیں۔ نیتن یاہو کا مؤقف ہے کہ اس سے معاہدے پر پہنچنے کے امکانات بڑھیں گے۔
واضح رہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد اسرائیل نے دو مارچ سے لبنان میں بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں جن سے 2200 کے قریب افراد ہلاک اور 7000 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ حملوں سے دس لاکھ کے قریب لوگ بے گھر بھی ہوئے ہیں۔






