ایران امریکہ مذاکرات کا دوسرا دور غیر یقینی کا شکار، وفود اب تک کیوں نہیں پہنچے اور معاملہ کہاں رکا ہوا ہے؟

10:3121/04/2026, Salı
جنرل21/04/2026, Salı
ویب ڈیسک
مذاکرات کے پہلے دور میں امریکی وفد کی پاکستان آمد کا منظر
مذاکرات کے پہلے دور میں امریکی وفد کی پاکستان آمد کا منظر

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں متوقع ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تو دعویٰ تھا کہ پیر کی رات ان کا وفد پہنچ جائے گا اور مذاکرات شروع ہو جائیں گے لیکن صورتِ حال اب تک غیر واضح اور غیر یقینی ہے کہ یہ مذاکرات کب ہوں گے اور آیا واقعی ہوں گے یا نہیں۔

ایران نے فی الحال مذاکرات میں شرکت سے انکار کیا ہے۔ ایران مطالبہ کر رہا ہے کہ امریکہ ناکہ بندی ختم کرے تو ہی وہ مذاکرات کے لیے آئیں گے۔ مذاکرات کے پہلے دور میں ایرانی وفد کی قیادت کرنے والے محمد باقر قالیباف نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ایران 'خطرات کے سائے میں' مذاکرات کو قبول نہیں کرے گا۔

تاہم پاکستانی ذرائع کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ ایرانی وفد مذاکرات کے لیے اسلام آباد آئے گا۔ پاکستان بطور ثالث ایران کو مذاکرات میں شرکت پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے ایرانی حکام سے رابطے بھی کیے ہیں۔

امریکہ کی سیکیورٹی اور ایڈوانس ٹیمیں پہلے ہی پاکستان پہنچ چکی ہیں۔ لیکن مرکزی وفد ابھی تک روانہ نہیں ہوا۔ امریکی میڈیا خبر دے رہا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس منگل کو امریکہ سے پاکستان کے لیے روانہ ہوں گے۔ لیکن بعض رپورٹس کے مطابق امریکہ بھی ایران کی جانب سے مذاکرات میں شرکت کی تصدیق کا انتظار کر رہا ہے۔ تاکہ ایسی صورتِ حال نہ ہو کہ امریکی وفد پہنچ جائے اور ایرانی فریق نہ آئے۔

امریکی وفد کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس، ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی برائے امور مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف کریں گے۔اگر ایرانی وفد اسلام آباد آتا ہے تو غالب امکان ہے کہ اس میں ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی شامل ہوں گے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی بدھ کو ختم ہونے والی ہے۔ صدر ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو جنگ بندی میں شاید توسیع نہ کی جائے اور انہوں نے ایران پر شدید حملوں اور بمباری کی بھی دھمکی دی ہے۔

مذاکرات کا پہلا دور 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا، تاہم وہ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا۔ اگرچہ بعض معاملات پر پیش رفت ہوئی، لیکن چند اہم نکات پر اختلافات برقرار ہیں۔

ایران کا جوہری پروگرام

امریکہ چاہتا ہے کہ ایران اپنا جوہری پروگرام مکمل طور پر بند کرے جب کہ تہران کا مؤقف ہے کہ ایسی پابندیاں صرف محدود مدت کے لیے ہونی چاہئیں۔

افزودہ یورینیم کا ذخیرہ

ٹرمپ کے مطابق امریکہ ایران کے تقریباً 400 کلوگرام افزودہ یورینیم کو اپنی تحویل میں لینا چاہتا ہے جسے ایران نے مسترد کر دیا ہے۔

آبنائے ہرمز

ایران کا کہنا ہے کہ جب تک امریکہ اس کی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم نہیں کرتا وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر پابندیاں برقرار رکھے گا۔ جب کہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ معاہدہ ہونے تک ناکہ بندی برقرار رہے گی۔

منجمد اثاثے

ایران کسی بھی معاہدے کے تحت تقریباً 20 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

جنگی ہرجانہ

ایران امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے تقریباً 270 ارب ڈالر کے معاوضے کا مطالبہ بھی کر رہا ہے۔

##ایران
##پاکستان
##امریکہ
##مذاکرات