
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ابھی ایران میں جو باقی بچا ہے اسے تباہ کرنا شروع نہیں کیا۔ انہوں نے انفراسٹرکچر پر حملے تیز کرنے اور ایران کو 'پتھر کے دور' میں پہنچانے کی پھر دھمکی دی ہے۔
امریکی فوج نے گزشتہ روز ایران کے سب سے بڑے پل پر حملہ کر کے اسے تباہ کر دیا۔ بی ون نامی یہ پل تہران اور کرج کے علاقوں کو ملاتا تھا اور حال ہی میں تعمیر کیا گیا تھا۔
اس اہم پل کی تعمیر کا کام ابھی آخری مراحل میں تھا اور اسے رواں سال ٹریفک کے لیے کھولا جانا تھا۔ تاہم امریکہ و اسرائیل کے جمعرات کو کیے گئے حملوں میں پل درمیان سے دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملے میں آٹھ افراد ہلاک اور 95 زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ملک کے سویلین انفراسٹرکچر پر حملوں کو دشمن کی شکست اور اخلاقی گراوٹ کا عکاس قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ شہری ڈھانچے، بشمول نامکمل پلوں پر حملوں سے ایرانی عوام ہار نہیں مانیں گے۔

بوشہر ایران کا ایک اہم پورٹ سٹی ہے اور یہیں ایران کی پہلی جوہری توانائی کی تنصیب بھی موجود ہے۔
ٹرمپ کے بدلتے بیانات اور بڑھتا دباؤ
پانچ ہفتوں سے جاری ایران جنگ کی وجہ سے دنیا بھر کی مالیاتی منڈیوں پر دباؤ پڑ رہا ہے اور ہر ملک متاثر ہو رہا ہے جس کی وجہ سے امریکی صدر پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ تنازع کا جلد کوئی حل نکالیں۔
دوسری طرف ٹرمپ ایران پر دباؤ بڑھا کر اسے اپنی شرائط پر معاہدے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں وہ ابھی تک کامیاب ہوتے نظر نہیں آئے۔ ان کے وقتاً فوقتاً بدلتے بیانات سے صورتِ حال مزید الجھ رہی ہے اور غیر یقینی کی کیفیت برقرار ہے۔

ایران کے حملے جاری
ادھر ایران نے جمعے کو پھر اسرائیل اور خلیجی ملکوں میں میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ کویت کا کہنا ہے کہ ایرانی حملوں سے سمندر کے پانی کو قابل استعمال بنانے والا ایک ڈی سیلینیشن پلانٹ بھی نشانہ بنا ہے۔
سعودی عرب نے سات ڈرونز روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکہ کے مبینہ جنگی جرائم کے بڑھتے خدشات
جمعرات کو بین الاقوامی قانون کے 100 سے زیادہ امریکی ماہرین نے امریکی فورسز کے طرزِ عمل پر سوال اٹھائے ہیں۔ ماہرین نے کہا ہے کہ امریکی اعلیٰ عہدے داروں کے بیانات 'انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کے سنجیدہ خدشات' کو جنم دے رہے ہیں۔
ماہرین نے اپنے خط میں ٹرمپ کے ایک بیان کا حوالہ بھی دیا ہے۔ مارچ کے وسط میں ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکہ ایران میں 'صرف مزے کے لیے' بھی حملے کر سکتا ہے۔






