ٹرمپ کو ایران کے ساتھ معاہدہ جلد ہونے کی امید: پسِ پردہ سفارت کاری میں کن معاملات پر بات ہو رہی ہے اور کیا پیش رفت ہوئی ہے؟

12:5217/04/2026, جمعہ
جنرل17/04/2026, جمعہ
ویب ڈیسک
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جمعرات کو ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقات کی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جمعرات کو ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقات کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کا معاہدہ جلد ہونے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی میں دو ہفتوں کی توسیع بھی ممکن ہے لیکن شاید اس کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔

جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا 'ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ معاہدے کے بہت قریب ہیں۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ اگر معاہدہ ہوتا ہے اور اسلام آباد میں ہی ہوتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ بھی پاکستان جائیں۔

بیک ڈور ڈپلومیسی میں 'پیش رفت'

امریکہ اور ایران کی ثالثی کے معاملے میں شریک ایک پاکستانی عہدے دار نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو میں کہا ہے کہ پسِ پردہ سفارت کاری میں پیش رفت ہو رہی ہے اور دونوں ملکوں کے وفود کی اگلی ملاقات میں کسی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو سکتے ہیں جس کے بعد 60 دن کے اندر ایک جامع معاہدہ طے پا سکتا ہے۔

عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ دونوں فریقین اصولی طور پر متفق ہیں جب کہ تیکنیکی سطح پر بعد میں دیکھا جائے گا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان کے مرکزی ثالث کار فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر بدھ سے تہران میں موجود ہیں جہاں ان کی ایرانی رہنماؤں سے ملاقاتوں میں کچھ اہم مسائل پر پیش رفت ہو گئی ہے۔

وہ معاملات جو امریکہ اور ایران کے مذاکرات میں ڈیڈ لاک کا سبب بنے ہوئے ہیں ان میں ایران کی جوہری صلاحیت، اور افزودہ شدہ یورینیم کی حوالگی کا مسئلہ خاصا اہم ہے۔ گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات میں ذرائع کے مطابق امریکہ نے تجویز دی تھی کہ ایران کی جوہری سرگرمیوں پر 20 سال تک پابندی عائد ہو جب کہ تہران نے تین سے پانچ سال تک سرگرمیاں روکنے کی پیش کش کی تھی۔

اس کے علاوہ ایران کی جانب سے اس پر عائد تمام پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے جب کہ واشنگٹن افزودہ شدہ یورینیم کو ایران سے نکالنے کا بھی مطالبہ کر رہا ہے۔ دو ایرانی ذرائع نے کہا ہے کہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ ایران یورینیم کے ذخیرے پر کسی سمجھوتے پر آمادہ ہو گیا ہے اور ایک حصے کو ملک سے باہر منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے۔

#ڈونلڈ ٹرمپ
#ایران
#امریکہ
#پاکستان
#افزودہ شدہ یورینیم
#پس پردہ سفارت کاری
#جوہری معاہدہ
#بیک ڈور ڈپلومیسی
#امریکہ ایران مذاکرات