افغانستان کا ایک گاؤں جہاں دو ماہ بعد امداد پہنچی، 'پاکستان کے ساتھ لڑائی شروع ہونے کے بعد سے ہم صرف دودھ پر گزارا کر رہے تھے'

14:1024/04/2026, Cuma
جنرل24/04/2026, Cuma
ویب ڈیسک
امدادی ادارے کامدیش میں سامان تقسیم کر رہے ہیں
امدادی ادارے کامدیش میں سامان تقسیم کر رہے ہیں

افغانستان کے کئی دور دراز علاقوں میں بسنے والوں نے دو ماہ بعد اب سکون کا سانس لیا ہے کیوں کہ پاکستان کے ساتھ جھڑپوں کے بعد اب کہیں جا کر ان تک کوئی امداد پہنچی ہے۔

افغانستان کے سرحدی علاقوں میں پہاڑوں کے درمیان کئی دیہات کے مکین پاکستان کے ساتھ جھڑپوں سے بعد سے دنیا سے کٹے ہوئے تھے۔

کام دیش نامی ایک گاؤں جو افغان صوبے نورستان میں پہاڑوں کی چوٹی پر واقع ہے، کے کچھ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ فروری میں دونوں ملکوں کی لڑائی شروع ہونے کے بعد سے وہ صرف گائے کے دودھ پر گزارا کر رہے تھے۔ کیوں کہ ان کے گاؤں تک اشیائے ضروریہ پہنچ ہی نہیں پا رہی تھیں۔
کامدیش کے رہائشیوں تک دو ماہ بعد امداد پہنچی ہے

صوبائی حکام نے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا ہے کہ ایک بین الاقوامی امدادی کارواں کو رواں ہفتے اس علاقے میں جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ ان کے بقول پچھلے کئی ہفتوں سے اس گاؤں تک آنے والی سڑک ناقابلِ استعمال تھی۔

یہ امدادی قافلہ انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس، افغان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی اور ورلڈ فوڈ پروگرام کی جانب سے منظم کیا گیا ہے جو پینے کا پانی، کھانا اور میڈیکل آلات لے کر کام دیش کے درجنوں رہائشیوں تک پہنچا ہے جو ریلیف کے منتظر تھے۔

ایک مقامی کاشت کار اسامہ نورستانی نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ 'جب روڈ بند تھا تو ہم آٹا، گھی اور چینی جیسی چیزیں بھی حاصل نہیں کر پا رہے تھے۔'

ان کے بقول 'ہم نے اپنے گھر چھوڑ دیے اور پہاڑوں میں چلے گئے۔ وہاں ہم نے کچھ وقت گزارا۔ ہمارے مویشی بیمار پڑ گئے اور ہم تک کوئی دوا نہیں پہنچ پا رہی تھی۔'

انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے مطابق اس تنازع کی وجہ سے اسامہ نورستانی کی طرح ایک لاکھ 36 ہزار افراد خوراک، صحت کی سہولتوں اور بنیادی گھریلو سامان کی سخت قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اور افغانستان کی حالیہ جھڑپوں کے دوران سینکڑوں افغان شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

ایک اور مقامی رہائشی محمد نعیم نے کہا کہ 'دوسرا روڈ برف کی وجہ سے بہت دشوار گزار راستہ ہے جو صرف سال میں دو ماہ کے لیے کھلتا ہے۔

رواں ہفتے اقوام متحدہ کے ایک امدادی ادارے نے کہا تھا کہ کام دیش کو ملانے والی اہم سڑک فائرنگ کے خطرے کی وجہ سے ناقابل استعمال ہو چکی ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان افغانستان پر دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کا الزام لگاتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے۔ افغان میں برسر اقتدار طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔

#افغانستان
#پاکستان
#نورستان
#افغان پاک تنازعہ
#سرحدی جھڑپیں
#انسانی بحران