ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی نئی تجویز سے ناخوش ہیں: امریکی عہدے دار

09:5028/04/2026, Salı
جنرل28/04/2026, Salı
ویب ڈیسک
تہران کے شہری ایک چوک میں اپنے ملک کی حمایت کرتے نظر آ رہے ہیں۔
تہران کے شہری ایک چوک میں اپنے ملک کی حمایت کرتے نظر آ رہے ہیں۔

ایران کی جانب سے امریکہ کو جنگ کے خاتمے کے لیے ایک نئی تجویز پیش کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم امریکی عہدے دار نے اس سے متعلق کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس حالیہ تجویز سے خوش نہیں ہیں جس کی وجہ سے کوئی پیش رفت ہونے کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں۔

ایران کی حالیہ تجویز میں نیوکلیئر پروگرام کو بعد کے مراحل میں طے کرنے کی بات کی گئی ہے اور پہلے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا مسئلہ حل کرنے کی پیش کش ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق امریکی صدر کی پیر کو مشیروں سے ہونے والی میٹنگ سے آگاہ ایک امریکی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہیں بتایا کہ ایران کی حالیہ تجویز سے یہ بہت مشکل ہے کہ امریکہ مطمئن ہو۔ صدر ٹرمپ ایران کی اس تجویز سے ناخوش ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے کہا ہے کہ امریکہ 'میڈیا کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا' اور 'اپنی ریڈ لائنز کے بارے میں واضح کر چکا ہے۔'

ایران کی نئی تجاویز کیا ہیں؟

بعض ایرانی حکام نے رائٹرز کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ عباس عراقچی اپنے حالیہ دورے میں نئی تجاویز کے ساتھ اسلام آباد پہنچے تھے جس میں مذاکرات کے پہلے مرحلے میں جوہری مسائل کو ایک طرف رکھ کر دیگر معاملات حل کرنے کی بات کی گئی ہے۔

پہلے مرحلے میں جنگ کے خاتمے اور یہ گارنٹی دینے کی بات کی گئی ہے کہ امریکہ دوبارہ جنگ شروع نہیں کرے گا۔ اس کے بعد امریکہ کی جانب سے ایران کی ناکہ بندی کا مسئلہ اور آبنائے ہرمز کے مستقبل کا مسئلہ حل کرنے کی بھی تجویز شامل ہے۔

حکام کے مطابق ان معاملات کو حل کرنے کے بعد ہی دیگر مسائل پر بات شروع کی جا سکتی ہے جن میں امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام کا دیرینہ مسئلہ بھی شامل ہے۔

تاہم وائٹ ہاؤس سے ملنے والے اشاروں، پاکستان میں گزشتہ ہفتے کوئی بڑی پیش رفت نہ ہونے اور امریکی صدر کی جانب سے اپنے مذاکرات کاروں کا دورۂ اسلام آباد منسوخ کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ اس تجویز پر اتفاق کے امکانات کم ہیں۔

دوسری جانب ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے دورہ پاکستان اور عمان کے بعد پیر کو روس پہنچ کر صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی اور اپنے دیرینہ اتحادی کی حمایت مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔

عباس عراقچی نے روس میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ٹرمپ مذاکرات کی درخواست اسی لیے کر رہے ہیں کیوں کہ امریکہ جنگ میں اپنا کوئی ہدف حاصل نہیں کر سکا۔

#ڈونلڈ ٹرمپ
#ایران
#امریکہ
#عباس عراقچی
#جوہری پروگرام