
پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بھاری اضافہ کر دیا گیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت 137.23 روپے اور ڈیزل کی قیمت 184.49 روپے فی لیٹر بڑھائی گئی ہے جس پر شہری اور مختلف سیاسی و سماجی حلقے سخت تنقید کر رہے ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ایران جنگ کے اثرات کی وجہ سے ناگزیر تھا اور عوام کو گزشتہ ایک ماہ کے دوران ریلیف دینے کی ہر ممکن کوشش کی۔ حکومت نے موٹرسائیکل سواروں، چھوٹے کاشت کاروں اور ٹرانسپورٹرز کو ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔
تاہم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اس حکومتی فیصلے پر عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا پر سخت تنقید بھی ہو رہی ہے اور بعض حلقوں کا کہنا ہے اس سے ملک میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان جنم لے گا اور تمام اشیا کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔
حذیفہ نامی صارف نے ایکس پر اسے قیمتوں میں تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عام آدمی کو کچل دیا ہے۔ ایک عام شہری کیسے اس اضافے کو برداشت کر پائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قیمتوں میں اضافہ نہیں بلکہ معاشی تباہی ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے بھی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اسے عوام پر پھینکا گیا پیٹرول بم قرار دیا اور حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ملک میں احتجاجی تحریک شروع کرنے کا بھی اعلان کیا۔
ایران جنگ شروع ہونے سے قبل پاکستان میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت ڈھائی سو روپے سے کچھ زیادہ تھی جس میں اب تقریباً دو سو روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اسی طرح ڈیزل، مٹی کے تیل اور ایل پی جی گیس کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ کیا جا چکا ہے۔
پیٹرول کی موجودہ قیمت 458.40 روپے (1.65$) جب کہ ڈیزل کی قیمت 520.35 روپے (1.87$) ہو چکی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مستحق طبقوں کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے بچانے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی دے گی۔ موٹر سائیکل سواروں کو فی لیٹر 100 روپے کی رعایت دی جائے گی تاہم یہ صرف 20 لیٹر ماہانہ پیٹرول کے لیے ہوگی۔
اسی طرح چھوٹے کسانوں کو فی ایکڑ زمین پر 1500 روپے یکمشت دیے جائیں گے تاکہ وہ فصل کی کاشت کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافےکے اثرات سے بچ سکیں۔
حکومت ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بھی رعایت دے گی اور سامان بردار ٹرکوں کو ماہانہ 70 ہزار روپے تک دیے جائیں گے، بڑی ٹرانسپورٹ گاڑیوں کو 80 ہزار اور مسافر بسوں کو ایک لاکھ روپے ماہانہ تک دیے جائیں گے تاکہ دیگر اشیا کی قیمتوں میں ٹرانسپورٹ کی مد میں کم سے کم اضافہ ہو۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سبسڈیز کا ماہانہ بنیادوں پر جائزہ لیا جائے گا جب کہ پاکستان ریلوے کو بھی کم آمدنی والے طبقوں کے لیے کرائے کم رکھنے میں حکومت مدد دے گی۔






