
ایران اور امریکہ کے پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا لیکن کئی بین الاقوامی ادارے رپورٹ کر رہے ہیں کہ دونوں ملکوں کی بات چیت ابھی ختم نہیں ہوئی۔ برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے 11 عہدے داروں سے بات کر کے تصدیق کی ہے کہ مذاکرات ابھی ختم نہیں ہوئے۔
رائٹرز کے مطابق اسے مذاکرات کا انتظام دیکھنے والے عملے نے بتایا ہے کہ اسلام آباد کے سرینا ہوٹل کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ ایک حصہ امریکی وفد، ایک ایرانی وفد کے لیے مختص کیا گیا تھا جب کہ ایک سہ فریقی مذاکرات کے لیے تھا جن میں پاکستانی حکام بھی بطور ثالث شریک تھے۔
دو ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ مرکزی ہال میں فون لانے کی اجازت نہیں تھی۔ اس لیے وفد کے ارکان بشمول امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایران کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی مذاکرات میں وقفے کے دوران کمرے سے باہر جا کر فون پر بات کی۔
پاکستان حکومت کے ایک عہدے دار کے مطابق 'مذاکرات کے دوران بہت زیادہ امید تھی کہ کوئی پیش رفت ہو جائے گی اور دونوں فریقین کسی معاہدے پر پہنچ جائیں گے۔ تاہم چیزیں بہت کم وقت میں یکسر بدل گئیں۔'
مذاکرات میں شامل ایک اور عہدے دار نے رائٹرز کو بتایا کہ ایک موقع پر فریقین معاہدے کے بہت قریب پہنچ گئے تھے اور تقریباً 80 فیصد چیزوں پر اتفاق ہو گیا تھا۔ لیکن پھر یہ موقع بھی آیا جب مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گئے۔
'ماحول میں تناؤ تھا'
دو ایرانی اعلیٰ حکام کے مطابق مذاکرات کا ماحول تناؤ والا اور غیردوستانہ تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ماحول میں نرمی لانے کی کوشش کی لیکن دونوں جانب سے تناؤ کم کرنے پر آمادگی نہیں دکھائی گئی۔
دو ایرانی ذرائع کے مطابق اتوار کی صبح تک ماحول کچھ بہتر ہو چکا تھا اور امکان تھا کہ شاید مذاکرات میں ایک دن کی توسیع ہو جائے۔
لیکن اختلافات موجود تھے۔ امریکی ذرائع کے مطابق ایرانیوں نے امریکہ کے مقصد کو صحیح طرح نہیں سمجھا کہ وہ ایسے معاہدے پر پہنچنا چاہتا ہے جو یقینی بنائے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ اس دوران ایران کے امریکی مقاصد پر بداعتمادی بھی برقرار رہی۔
مذاکرات کی یہ تفصیلات ذرائع نے معاملے کی حساسیت کے پیشِ نظر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتائی ہیں۔
'کوششیں اب بھی جاری ہیں'
رائٹرز کی جانب سے ایرانی حکومت سے رابطے اور ردعمل کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ دوسری جانب پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 'ایران نے آج صبح رابطہ کیا اور کہا کہ وہ معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔'
ٹرمپ کے اس بیان سے متعلق ایک امریکی عہدے دار نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اب بھی رابطے برقرار ہیں اور کسی معاہدے پر پہنچنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوران امریکہ کا مؤقف کبھی تبدیل نہیں ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ 'ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں آ سکتا اور صدر ٹرمپ کی مذاکراتی ٹیم اس ریڈ لائن اور دیگر ایسے معاملات پر اٹک گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کی سمت میں بڑھنے کے لیے رابطے جاری ہیں۔
بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اب بھی دونوں ملکوں کے درمیان پیغام رسانی جاری رکھے ہوئے ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدے دار کے مطابق امریکہ چاہتا ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر ختم کرے، تمام نیوکلیئر افزودگی کی تنصیبات ختم کرے، افزودہ یورینیم جو اس کے پاس موجود ہے وہ حوالے کرے، ایک وسیع امن معاہدہ قبول کرے، علاقائی پراکسیز کی فنڈنگ بند کرے، آبنائے ہرمز بغیر کسی ٹول کے کھولے اور ایسے سیکیورٹی فریم ورک پر آمادہ ہو جس میں علاقائی اتحادیوں کی بھی شمولیت ہو۔
ایرانی ذرائع کے مطابق ایران کے مطالبات میں جنگ بندی کی مستقل ضمانت، ایران اور اس کے اتحادیوں پر مستقبل میں کوئی حملہ نہ کرنے کی ضمانت، تمام پابندیوں کے خاتمے، تمام اثاثوں کو غیر منجمد کرنا، یورینیم افزودگی کا حق تسلیم کرنا اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول برقرار رکھنا شامل ہیں۔
اتار چڑھاؤ اور کشیدہ لمحات
رائٹرز کو 11 میں سے چار ذرائع نے بتایا کہ ایک موقع پر مذاکرات اس حد تک آگے بڑھ گئے تھے کہ کم از کم ایک ابتدائی فریم ورک پر اتفاق ہو سکتا تھا۔ تاہم ایران کے جوہری پروگرام، آبنائے ہرمز اور تہران کی جانب سے منجمد اثاثوں تک رسائی کے مطالبے پر بات چیت تعطل کا شکار ہو گئی۔
ایرانی ذرائع کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں زیادہ تر بات چیت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، ایرانی پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ہوئی۔
ایک سیکیورٹی ذریعے نے بتایا 'مذاکرات میں اتار چڑھاؤ آتے رہے، کشیدہ لمحات بھی آئے، لوگ کمرے سے باہر چلے گئے اور پھر واپس آئے۔'
پانچ پاکستانی ذرائع کے مطابق پاکستان کی نمائندگی کرنے والے حکام، جن میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار شامل تھے، رات بھر دونوں فریقین کے درمیان رابطہ کاری کرتے رہے تاکہ مذاکرات کو درست سمت میں رکھا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات 20 گھنٹے سے زائد جاری رہے۔ اس دوران ہوٹل کا عملہ بھی وہیں موجود رہا۔
'ہم آپ پر کیسے اعتماد کر لیں؟' عباس عراقچی کا سخت لہجہ
ایرانی ذرائع کے مطابق جب بات ضمانتوں یعنی عدم جارحیت کی یقین دہانی اور پابندیوں میں نرمی تک پہنچی تو عام طور پر نرم مزاج سمجھے جانے والے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا لہجہ سخت ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق انہوں نے کہا 'ہم آپ پر کیسے اعتماد کریں، جب جینیوا میں گزشتہ ملاقات کے دوران آپ نے کہا تھا کہ جب تک سفارت کاری جاری ہے، امریکہ حملہ نہیں کرے گا؟'
واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملے جینیوا میں مذاکرات کے صرف دو دن بعد شروع کیے تھے۔
ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز، پابندیوں اور دیگر امور کے علاوہ دونوں فریقین کے درمیان معاہدے کے دائرہ کار پر بھی اختلاف رہا۔ جہاں واشنگٹن کی توجہ جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز تک محدود تھی وہیں تہران ایک وسیع تر معاہدہ چاہتا تھا۔
ایک حکومتی ذریعے کے مطابق ایک موقع پر تناؤ اس قدر بڑھ گیا کہ بلند آوازیں کمرے کے باہر تک سنائی دیں جس پر آرمی چیف عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چائے کا وقفہ کرایا اور دونوں فریقین کو الگ الگ کمروں میں بھیج دیا۔
'یہ ہماری آخری اور بہترین پیشکش ہے'
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے آخری مراحل میں امریکی وفد کے ارکان ایرانی وفد کے مقابلے میں زیادہ بار مذاکراتی کمرے اور اپنے نجی فلور کے درمیان آتے جاتے رہے۔
ایک سینیئر پاکستانی عہدے دار نے بتایا کہ امریکی وفد کے برعکس ایرانی وفد زیادہ تر اپنی جگہ پر موجود رہا جب کہ امریکی نمائندے بار بار مشاورت کے لیے باہر جاتے رہے۔
ایک امریکی ذریعے کے مطابق جے ڈی وینس ان مذاکرات میں کسی معاہدے تک پہنچنے اور باہمی مفاہمت پیدا کرنے کے ارادے سے شریک ہوئے تھے۔ تاہم امریکی فریق طویل مذاکرات سے محتاط رہا۔ کیوں کہ اس کا ماننا ہے کہ ایران تاخیری حربے استعمال کرنے میں ماہر ہے اور آسانی سے رعایت دینے پر آمادہ نہیں ہوتا۔
تعطل کے باوجود جب وینس نے بعد میں میڈیا سے گفتگو کی تو ان کے بیانات سے ظاہر ہوا کہ کسی نہ کسی شکل میں مزید بات چیت کا امکان موجود ہے۔
انہوں نے کہا 'ہم یہاں سے ایک نہایت سادہ تجویز کے ساتھ جا رہے ہیں، ایک ایسا طریقۂ کار جو ہماری آخری اور بہترین پیشکش ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ آیا ایرانی اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔'






