مقامی ٹی وی ’جیو نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نے جھنگ شہر کو سیلاب سے بچانے اور تریموں ہیڈ پر دباؤ کم کرنے کے لیے ریواز پل کے قریب بند کو کنٹرولڈ دھماکے سے اڑا دیا ہے۔
جھنگ شہر کو بچانے کےلئے ریواز ریلوے پل کے قریب ریلوے لائن پر بنے بند کو دھماکے سے اُڑا کر شگاف ڈال دیا گیا pic.twitter.com/gwlesbyZqb
دریائے چناب کا بڑا سیلابی ریلا ہیڈ قادر آباد کراس کرنے کے بعد اب چنیوٹ اور جھنگ کی طرف بڑھ رہا ہے اور جھنگ کے قریب ہیڈ تریموں پر پانی کا بہاؤ سات سے آٹھ لاکھ کیوسک تک پہنچنے کی توقع ہے جس سے ہیڈورکس کے اسٹرکچر کو بھی خطرہ ہے۔
ان دونوں شہروں اور تریموں ہیڈورکس کو بڑے سیلاب سے بچانے کے لیے اب دریا کے بند میں شگاف ڈالا گیا ہے۔
پنجاب میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 20 ہو گئی، 1700 دیہات زیرِ آب
پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ صوبے میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 20 ہو گئی ہے۔
پنجاب کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے سربراہ عرفان علی کاٹھیا کے مطابق پنجاب میں ساڑھے چودہ لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں اور سیلاب کی شدت کو دیکھتے ہوئے متاثرین کی تعداد بڑھنے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب کے بعد پانی میں پھنسے چار لاکھ انتیس ہزار افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے جبکہ صوبے بھر میں 365 ریلف کیمپ لگائے گئے ہیں جن میں چار ہزار متاثرین موجود ہیں۔ ان کے بقول سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے تین لاکھ سے زائد مال مویشوں کو بھی نکالا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے سربراہ کے مطابق پنجاب میں 1769 دیہات زیر آب آ چکے ہیں اور جب تک پانی سندھ میں داخل نہیں ہو جاتا اُس وقت تک خطرہ برقرار ہے۔
محکمۂ موسمیات نے واپڈا کے ڈیٹا کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان کے دو سب سے بڑے ڈیموں تربیلا اور منگلا تقریباً پورے بھر چکے ہیں اور اپنی انتہائی سطح پر ہیں۔ اس کے علاوہ سملی، راول اور خانپور ڈیم بھی مکمل بھرے ہوئے ہیں۔
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے نے ملک کے مختلف علاقوں میں مزید مون سون بارشوں کا الرٹ جاری کیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق 29 اگست سے دو ستمبر تک اسلام آباد میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے جبکہ پنجاب کے شمالی و شمال مشرقی اضلاع میں 30 سے 31 اگست کے دوران شدید بارشوں کا امکان ہے۔
— Pak Met Department محکمہ موسمیات (@pmdgov) August 29, 2025
اسی عرصے کے دوران سندھ اور بلوچستان کے کئی علاقوں میں بھی موسلادھار بارشیں متوقع ہیں۔ این ڈی ایم اے کے مطابق کراچی میں 30 اگست تا 2 ستمبر تک بارشیں متوقع ہیں جس کے باعث اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔
دریائے چناب کا سب سے بڑا ریلا ہیڈ قادرآباد سے آگے نکل چکا ہے اور اب چنیوٹ اور جھنگ کے قریب پانی کی سطح بلند ہونا شروع ہو گئی ہے۔
تاہم ہیڈ قادرآباد پر اب بھی پانی کا بہاؤ دو لاکھ کیوسک ہے جس میں بتدریج کمی آ رہی ہے۔ مگر جھنگ کے قریب تریموں ہیڈ پر پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق جمعے کی صبح دس بجے چنیوٹ میں پانی کی مقدار آٹھ لاکھ ساڑھے 42 ہزار کیوسک ریکارڈ کی گئی جو کہ مسلسل بڑھ رہی ہے۔
بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق دریا کا پانی پہلے ہی چنیوٹ شہر کے مضافاتی علاقوں کے علاوہ شہر کے نشیبی علاقوں تک پہنچ چکا ہے اور ضلعی انتظامیہ نے جمعرات کی شب ہی شہر کے متعدد محلوں سے آبادی کے انخلا کی ہدایات جاری کر دی تھیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق چنیوٹ اور جھنگ کو سیلاب سے بچانے کے لیے کسی دوسرے مقام پر دریا کے بند میں شگاف بھی ڈالا جا سکتا ہے۔
راوی
دریائے راوی میں اس وقت شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ دو لاکھ کیوسک سے زیادہ ہے جو انتہائی درجے کا سیلاب ہے۔
جمعرات کی رات یہاں پانی کی سطح دو لاکھ 20 ہزار کیوسک سے زیادہ ہو گئی تھی جس کی وجہ سے لاہور کے نواحی علاقے بھی زیرِ آب آئے ہیں جہاں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
اب اس سیلابی ریلے کا رخ ہیڈ بلوکی کی طرف ہے جہاں پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہیڈ بلوکی پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 47 ہزار کیوسک ہے۔
ستلج
دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کی سطح بدستور بلند ہے اور یہاں بھی انتہائی درجے کا سیلاب ہے۔ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اس وقت پانی کا بہاؤ دو لاکھ 61 ہزار کیوسک سے زیادہ ہے۔