
پیٹونگٹرن شیناوترا کی رواں سال جون میں ایک متنازع فون کال لیک ہوئی تھی جس پر آئینی عدالت نے انہیں عہدے سے معطل کر دیا تھا۔ تاہم اب مقدمے کا حتمی فیصلہ سناتے ہوئے انہیں وزارتِ عظمیٰ سے ہٹا دیا گیا ہے۔
تھائی لینڈ کے آئینی عدالت نے وزیر اعظم پیٹونگٹرن شیناوترا کو اخلاقی قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ یہ تھائی لینڈ کے شیناوترا سیاسی خاندان کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے جو ملک میں نئی سیاسی کشیدگی کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔
پیٹونگٹرن شیناوترا تھائی لینڈ کی سب سے کم عمر وزیرِ اعظم تھیں جو صرف ایک سال اقتدار میں رہ سکیں۔ وہ اگست 2024 میں وزیرِ اعظم منتخب ہوئی تھیں۔ شیناوترا خاندان سے تعلق رکھنے والی یا ان کی حمایت سے وزیرِ اعظم بننے والی چھ شخصیات کو پچھلی دو دہائیوں کے دوران فوج یا عدالت نے اقتدار سے ہٹایا ہے۔

معاملہ کیا تھا؟
پیٹونگٹرن شیناوترا کی رواں سال جون میں ایک فون کال لیک ہوئی تھی جس میں وہ کمبوڈیا کے سابق وزیرِ اعظم ہن سین سے گفتگو کر رہی تھیں اور انہوں نے ہن سین کو ’انکل‘ کہہ کر پکارا تھا۔
یہ کال ایک ایسے وقت میں لیک ہوئی جب تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی کشیدگی بڑھ رہی تھی۔ اس فون کال میں شیناوترا نے اپنی فوج کے اقدامات پر تنقید بھی کی تھی۔
پیٹونگٹرن شیناوترا نے لیک کال میں کمبوڈیا کے سابق وزیرِ اعظم کو کہا تھا کہ اگر کچھ چاہیے تو وہ بس انہیں بتائیں۔ وہ اس کا خیال رکھیں گی۔ اس لیک آڈیو سے تھائی لینڈ میں ہنگامہ کھڑا ہو گیا اور ان کے مخالفین نے ان پر ملک کے قومی مفادات کی قربانی دینے کا الزام لگایا تھا۔
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کی حال ہی میں شدید سرحدی جھڑپیں بھی ہوئیں جو پانچ دن تک جاری رہیں۔ ان جھڑپوں میں 38 افراد مارے گئے۔
پیٹونگٹرن شیناوترا نے اپنی اس فون کال پر لوگوں سے معافی بھی مانگی اور کہا تھا کہ انہوں نے جو گفتگو کی وہ صرف مذاکرات کی حکمتِ عملی تھی تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
تاہم یکم جولائی کو تھائی لینڈ کی آئینی عدالت نے شیناوترا کو معطل کر دیا تھا جس کے بعد مقدمے کی عدالتی کارروائی جاری رہی اور اس کا فیصلہ جمعے کو سنایا گیا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں شیناوترا کی لیک فون کال میں ہونے والی گفتگو کو اخلاقی قوانین کے خلاف قرار دیا ہے۔