
اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے غزہ سے دو یرغمالوں کی لاشیں برآمد کر لی ہیں اور انہیں اسرائیل واپس پہنچا دیا گیا ہے۔
جمعے کو وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی شہری ایلان ویس کی لاش غزہ سے برآمد کر لی گئی ہے۔ ایک اور لاش کی باقیات ملی ہیں جس کی شناخت ابھی ظاہر نہیں کی گئی۔
اسرائیلی فوج کے مطابق 55 سالہ ایلان ویس کو حماس نے سات اکتوبر 2023 کے حملے کے دوران اغوا کیا تھا اور وہ اسی حملے کے دوران مارے گئے تھے۔
نیتن یاہو نے کہا ہے کہ یرغمالوں کو واپس لانے کی مہم مسلسل جاری ہے۔ جب تک ہم اپنے سارے زندہ اور مردہ یرغمالوں کو گھر واپس نہیں لے آتے، تب تک ہم نہ چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
حماس نے سات اکتوبر کے حملے میں اسرائیل سے تقریباً 251 افراد کو یرغمال بنا لیا تھا جن میں سے تقریباً 50 اب بھی غزہ میں ہیں جن میں سے 20 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔
اسرائیل میں یرغمالوں کی فیملیز کی تنظیم بڑے پیمانے پر مظاہرے کر رہی ہے اور غزہ میں جنگ بند کر کے یرغمالوں کو زندہ واپس لانے کے مطالبات کر رہی ہے۔
اسرائیلی ہاسٹیجز اینڈ مسنگ فیملیز فورم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ہم اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مذاکرات کا حصہ بنے اور تب تک مذاکرات کرے جب تک آخری یرغمالی اپنے گھر نہیں پہنچ جاتا۔‘
غزہ سٹی میں لڑائی کا وقفہ ختم
اسرائیلی فوج نے جمعے کو اعلان کیا ہے کہ غزہ سٹی میں امدادی سامان کی ترسیل کے لیے لڑائی میں جو وقفہ کیا جاتا ہے، اب وہ نہیں کیا جائے گا کیوں کہ یہ علاقہ اب ’خطرناک محاذِ جنگ‘ بن چکا ہے۔
اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی کی آبادی کو فوری علاقہ چھوڑنے کی ہدایت تو نہیں کی مگر اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ علاقے سے لوگوں کا انخلا لازمی ہوگا۔
یاد رہے کہ اسرائیلی حکومت نے غزہ سٹی پر مکمل قبضے کا منصوبہ منظور کیا ہے جس کے بعد فوج نے اس علاقے میں نئی زمینی کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔
غزہ سٹی، غزہ کی پٹی کا سب سے بڑا شہر ہے جہاں تقریباً 10 لاکھ فلسطینی آباد ہیں۔