
استنبول میں واقع ڈیموکریسی اینڈ فریڈم آئی لینڈ پر غزہ سے متعلق اجلاس میں شریک اسلامی اسکالرز نے جمعے کی نماز کے بعد آیا صوفیہ کی تاریخی مسجد سے اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔ اس اجلاس میں 50 سے زائد ممالک کے 150 سے زیادہ ممتاز اسلامک اسکالرز نے شرکت کی جس کے بعد جمعے کو اس کا متفقہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔
پریس کانفرنس کا آغاز ترکیہ کے مذہبی امور کے ڈائریکٹریٹ کے صدر علی ارباش کے خطاب سے ہوا جنہوں نے اسرائیلی جارحیت پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں صیہونی رجیم کھلی نسل کشی کر رہی ہے۔ ہماری نظریات میں ظلم کے خلاف خاموشی اختیار کرنا حرام ہے۔ اس لیے ہر فرد کو اپنی ذمے داری ادا کرنی چاہیے۔ قابض صیہونیوں کی مصنوعات کا بائیکاٹ جاری رہنا چاہیے۔
ورلڈ یونین آف مسلم اسکالرز کے صدر پروفیسر ڈاکٹر علی محی الدین القرداغی نے ورک شاپ کا حتمی اعلامیہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جلد ترک صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات کریں گے اور انہیں غزہ کی صورت حال سے آگاہ اور مسلم امہ کو ہر قسم کی مزاحمت کے لیے تیار رہنے کی اپیل کریں گے۔
پروفیسر ڈاکٹر نصراللہ حاجی مفتی اوغلو نے اپنے بیان میں کہا کہ غزہ سے ملحقہ تمام بارڈر کراسنگز کو فوری طور پر کھولنا لازم ہے۔ یہ غزہ کے پڑوسی ممالک کا شرعی اور انسانی فریضہ ہے۔
مذہبی امور کے ڈائریکٹریٹ کے صدر علی ارباش کے خطاب کے اہم نکات

ورلڈ یونین آف مسلم اسکالرز کے صدر پروفیسر ڈاکٹر علی محی الدین القرداغی نے اجلاس کا حتمی اعلامیہ پیش کرتے ہوئے کہا:
’اے غزہ! ہم تمہارے ساتھ ہیں، اور تم ہمارے ساتھ ہو۔ ہم یہ پیغام نہ صرف عرب اور اسلامی علما تک، بلکہ پوری دنیا تک پہنچا رہے ہیں کہ غزہ کی حمایت پوری امتِ مسلمہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
پروفیسر القرداغی نے کہا کہ وہ جلد ترک صدر رجب طیب ایردوگان سے ملاقات کریں گے اور انہیں غزہ کی موجودہ صورتِ حال سے آگاہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایردوگان کو یہ بھی بتائیں گے کہ علمائے اسلام امت کو ہر ممکن طریقے سے مزاحمت اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی دعوت دے رہے ہیں۔
کانفرنس میں ان اہم نکات پر زور دیا گیا:
- غزہ کا مسئلہ اب صرف ایک مقامی تنازع نہیں رہا بلکہ یہ پوری امتِ مسلمہ اور انسانیت کے لیے ایک مشترکہ مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری بن چکا ہے۔
- اسرائیلی حملوں کو روکنے اور انسانی امداد کے لیے راستے کھولنے کے لیے تحریک چلانے کی کال دی گئی۔
- اس بات کی شدید ضرورت پر زور دیا گیا کہ ایک اسلامی و انسانی اتحاد قائم کیا جائے جو ’حلف الفضول‘ (قدیم عرب کا ایک معاہدہ) کی روح کو تازہ کرے اور صیہونیوں کی جانب سے کیے جانے والے نسل کشی کے جرائم کے خلاف کھڑا ہو اور ان کے توسیعی عزائم کو روکے۔
کانفرنس کا اختتام ’استنبول اعلامیے‘ کے ساتھ ہوا جس میں ان اقدامات کا اعلان کیا گیا:
- غزہ میں جاری نسل کشی کو روکنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر ایک قانونی اور پارلیمانی اتحاد قائم کیا جائے گا۔
- اس مقصد کا حصول امتِ مسلمہ کے اتحاد اور ’یروشلم الائنس‘ کے قیام سے ہی ممکن ہے جس کا واضح اظہار ترک صدر رجب طیب ایردوگان بھی کر چکے ہیں۔
- سربراہان مملکت سے براہِ راست رابطوں کے لیے سرکاری وفود تشکیل دیے جائیں گے اور ایک مستقل کمیٹی قائم کی جائے گی جو ان فیصلوں پر عمل درآمد کی نگرانی کرے گی۔
اعلامیے کے آخر میں صدر ایردوگان، ترک حکومت اور ورک شاپ کے انعقاد میں شامل تمام اداروں کا شکریہ بھی ادا کیا گیا۔
کانفرنس میں دو واضح پیغامات پیش کیے گئے۔
1.غزہ کے لیے پیغام: ’ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔‘
2.مزاحمت کے لیے پیغام: ’آپ کی جدوجہد جائز ہے؛ آپ کی فتح، انصاف اور آزادی کی فتح ہے۔‘
یہ کانفرنس کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئی جدوجہد کا آغاز ہے۔ اس عمل کو ایک تحریک کی صورت میں آگے بڑھایا جائے گا جس کی رہنمائی کانفرنس کے دوران طے کردہ فیصلے اور عمل درآمد کے طریقہ کار کریں گے۔
کانفرنس کے دوران اٹھارہ ورک شاپس منعقد کی گئیں جن میں امتِ مسلمہ اور پوری انسانیت کی اس المیے کے مقابلے میں ذمہ داریوں پر گفتگو ہوئی اور عملی اقدامات پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
یہ تاریخی اجتماع جمعہ 28 صفر 1447ھ (22 اگست 2025) کو استنبول کی ابو ایوب انصاری مسجد میں نمازِ جمعہ سے شروع ہوا تھا جس کے بعد آج اس کا حتمی اعلامیہ جاری کیا گیا۔
اسلامک اسکالرز فاؤنڈیشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر نصر اللہ حاجی مفتی اوغولو کے بیان کے اہم نکات:
آٹھ دن سے جاری ان اجلاسوں میں شرکا کو اس لیے جمع کیا گیا کہ وہ غزہ کی مدد کے لیے اپنی مذہبی اور انسانی ذمے داری نبھائیں۔

’انسانی و اسلامی ذمہ داری: غزہ‘ ورک شاپ کے اہم فیصلے:
- ہم مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کی ہر کوشش کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں اور ایسی تمام کوششوں کو مسترد کرتے ہیں۔
- سرحدی ممالک پر لازم ہے کہ امدادی سامان کے داخلے کے لیے دروازے فوری طور پر کھولیں۔
- مسلم تاجروں پر مذہبی طور پر لازم ہے کہ وہ غزہ کو خوش حال دنوں کی طرف لوٹانے کی ذمہ داری قبول کریں۔
- مسلم ممالک پر فرض ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تمام تعلقات فوری طور پر ختم کریں۔
- اسرائیل سے وابستہ کمپنیوں کی مصنوعات خریدنا حرام ہے اور ان کا بائیکاٹ واجب ہے۔
- بین الاقوامی فوجداری عدالت کے اسرائیل سے متعلق فیصلوں پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔
- بین الاقوامی عدالتوں کو چاہیے کہ نسل کشی کے مجرموں کا فوری طور پر محاسبہ کریں۔
- ہم مسیحی مذہبی اداروں، خصوصاً پوپ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ غزہ پر حملے روکنے کے لیے کھل کر مؤقف اختیار کریں۔
- تمام علما صدر ایردوگان، ان کی معزز حکومت، اور ترک قوم کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔
غزہ کانفرنس کا آغاز 22 اگست کو استنبول کے ڈیموکریسی اینڈ فریڈم آئی لینڈ سے ہوا۔
اسلامی اسکالرز کا یہ اجلاس ورلڈ یونین آف مسلم اسکالرز اور اسلامک اسکالرز فاؤنڈیشن کی جانب سے استنبول کے ڈیموکریسی اینڈ فریڈم آئی لینڈ پر منعقد کیا جا رہا تھا جس کا آغاز 22 اگست کو ہوا تھا۔ اس سے قبل 22 اگست کو ہی ایوب سلطان مسجد میں نمازِ جمعہ کے بعد ایک اہم پریس کانفرنس بھی کی گئی تھی۔
مسلم اسکالرز ’اسلامی اور انسانی ذمہ داری: غزہ‘ کے عنوان سے ہونے والے اس اجلاس میں جمع ہوئے اور استنبول سے پوری دنیا کو انصاف، درگزر اور یکجہتی کا پیغام دیا۔ پچاس سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے 150 سے زائد علما نے غزہ کے حق میں پراثر پیغامات دیے جن کا مقصد امتِ مسلمہ کے اجتماعی ضمیر کو بیدار کرنا تھا۔
ڈیموکریسی اینڈ فریڈم آئی لینڈ پر کانفرنس ہال میں دو مختلف گروپوں کے ساتھ ورکشاپ میں، علماء، مفکرین اور حکومتی نمائندوں نے مسلم ممالک کی ذمے داریوں، دوبارہ تعمیر کے منصوبوں، اور امدادی کاموں میں کاروباری افراد اور میڈیا کے کردار پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔